المیہ یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر احمد علی خان
JULY 29, 2019
المیہ یہ ہے۔
تحریر :- احمد علی خان
ایک بہت مشہور واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ میرے آقا سیدی ومرشدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک عورت اپنے بچے کے ساتھ حاضری دیتی ہے اور یوں عرض گزار ہے کہ یہ میٹھا کھاتا ہے نصیحت فرمائیے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آج جاؤ کل آنا۔ اگلے روز وہ عورت پھر حاضر ہوتی ہے تو آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم اسے میٹھا کم کھانے یا نہ کھانے کی نصیحت فرماتے ہیں۔وہ عورت کہنے لگتی ہے کہ آقا میر ے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ بات تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کل بھی فرما سکتے تھے ۔ تو میرے آقا کا جواب جانتے ہیں کیا تھا ؟؟ میرے آقا سیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کل یہ بات اسے کیسے کہتا جبکہ میں نے خود بھی میٹھا کھایا ہوا تھا ۔۔۔۔ آج المیہ یہ ہے ۔ کہ دودھ میں ملاوٹ کرنے والا شخص خالص شہد نہ ملنے کا رونا رو رہا ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ چپڑاسی کو اگر سو روپے کرپشن کا موقع مل جائے تو وہ اسے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا مگر وزیر کو اس کی رشوت ستانی اور خیانت پر ضرور کوستا ہے ۔۔۔۔المیہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے سوا ہر شخص ہی برا دکھائی دیتا ہے وجہ بالکل صاف ہے ۔ ایک مرتبہ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم مجھے لگتا ہے کہ دنیا کہ سب لوگ بہت اچھے ہیں آقا صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے سچ کہا ۔ پھر ایک شخص حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مجھے یوں لگتا ہے کہ آدھی دنیا اچھی ہے اور آدھی بری تو سیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے سچ کہا۔پھر تیسرا شخص آیا تو یوں گویا ہوا کہ اس کی دانست میں دنیاکے سبھی لوگ برے ہیں تو اس سے بھی یہی ارشاد فرمایا گیا کہ تو نے سچ کہا اب صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عرض گزار ہونے پر ختم المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بتلایا کہ جو خود اچھا تھا اسے سب اچھے دکھائی دئیے اسی طرح جو شخص اچھائی بھی رکھتا تھا اور برائی بھی اسے اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ جو شخص خود برا تھا اسے سب برے دکھائی دئیے المیہ یہ ہے کہ ہم بھی مؤخر الذکر شخص کی طرح ہوتے جا رہے ہیں گویا رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کہ مومن ، مومن کا آئینہ ہے کے مصداق ہم دوسروں کے اندر اپنی خوبیاں اور خامیاں دیکھتے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ خود میں جھانکنے کی بجائے دوسروں کو تلقین اور تنقید کرتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ یہ سب برائیاں ہمارے اندر موجود ہیں۔۔۔المیہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کو تو آینہ دکھاتے ہیں پر خود یہ زحمت گوارا نہیں کرتے اور ہم خدائے ذوالجلال ان فرامین کو بھول جاتے (اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ ۭ اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ) 2۔ البقرۃ:44) کیا تم لوگوں کو بھلائیوں کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے تئیں بھولے جا رہے ہو؟
دوسری آیت آیت (لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ﴿٢﴾ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ 61۔ الصف:2-3) کیوں تم وہ کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ بڑی ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو۔
تیسری آیت حضرت شعیب علیہ السلام کا فرمان آیت (وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰي مَآ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ ۭ اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۭ وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا بِاللّٰهِ ۭ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ اُنِيْبُ) 11۔ہود:88) یعنی میں جن کاموں سے تمہیں منع کرتا ہوں ان میں تمہاری مخالفت کرنا نہیں چاہتا، میرا ارادہ صرف اپنی طاقت بھر اصلاح کرنا ہے۔
اے مالک ! ہم کو سیدھا راستہ چلا،
راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا،
نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا آمین بجاہ سید المرسلین و خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔۔
Comments
Post a Comment